مت ماری

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بے وقوف، کم عقل۔ "کوئی مَت ماری طوائف پر لعن طعن کرتا تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، خدیجہ مستور، بوچھار، ١١ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'مت' کے بعد ہندی زبان سے ماخوذ اردو مصدر 'مارنا' سے صیغہ حالیہ تمام 'ماری' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٣٨ء کو "شکنتلا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے وقوف، کم عقل۔ "کوئی مَت ماری طوائف پر لعن طعن کرتا تھا۔"      ( ١٩٨٢ء، خدیجہ مستور، بوچھار، ١١ )

جنس: مؤنث